الزام ترشی
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے جس بھی حکومت کا خاتمہ ہوا اُس نے ریاستی اداروں پر الزام ترشی کی کسر نہیں چھوڑی اِن حکمرانوں کو اپنے گریبان میں دیکھانا چاہیے کہ ہم غلط تو نہیں جس طرح عمران خان عوام کو اُکسا کر اداروں کے خلاف بد زبان استعمال کروا رہا ہے یہ ملک کے لیے ٹھیک نہیں۔ اداروں کو چاہیے کہ جو بھی حکمران آئین اور قانون کی خلاف ورزی خود یا اپنے کار کنان سے کروائے اُس کو آئین اور قانون کے مطابق سزا دے۔
عمران خان نے پہلے بھی پاکستان کی نوجوان نسل کو گمراہ کیا تواقتدار میں آیا اِب بھی لیٹر گیٹ کا سہارہ لے کر عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔ میرا نوجوان نسل سے سوال ہے کہ جب فرانس نے ہمارے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو تحریکِ لیبک کا مطالبہ تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالو تو عمران خان نے جواب دیا کہ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمارے یورپ کے ساتھ تعلقات خراب ہوجائیں گے اور سعد رضوی کو جیل میں بند کردیا اُس کا یہ قصور تھا کہ وہ عاشقِ رُسول تھا۔ پاکستان کے نوجوانوں میری آپ سے گذارش ہے کہ عمران خان کی اصلیت کو پہچانو جس نے پوری زندگی یورپ میں گذاری ہو اور جس کے بیچے بھی یورپ میں ہو وہ پاکستان کو کیا ریاستِ مدینہ بنائے گا اور عوام کو کیا سبق سکھائے گا۔ عمران خان نے نبی کریم ﷺ کے گستاخوں کے لیے کچھ نہیں کیا اور امریکہ کے لیٹر کو حضور نبی کریم سے زیادہ اہمیت دی ایسے انسان کے لیے سڑکوں پر مت نکلو جس میں صرف اُس کا مفاد ہو اگر احتجاج کرنا ہے تو اپنے نبی کریم ﷺ کے گستاخوں کے خلاف سڑکوں پر آؤ تاکہ تمام ممالک کو معلوم ہو کہ مسلمان اپنے نبی کے لیے اپنی جان کا نظرانہ پیش کر سکتے ہیں۔
میراپاکستان کی عوام سے سوال ہے کیا نبی کریم ﷺ کے خلاف شازشیں نہیں ہوئی انہوں نے اپنی عوام کو گمراہ کیا انہوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا اور اللہ نے اُن کی مدد کی یہ لوگ اپنے ہی گھر کو آگ لگاتے ہیں۔
پاکستانی عوام کے لیے میرا سوال ہے جس طرح آج عمران خان کے لیے سڑکوں پر نعرہ بازی کر رہے ہو کیا جب حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی فرانس نے کی اُس وقت آپ کا جذبہ مر چکا تھا وہ تو ہمارے نبی تھے جن کے ذریعے ہما ری بخشش ہوگی عمران خان کیا ہماری بخشش کروائے گا۔
میرا طارق جمیل صاحب سے سوال ہے کہ وہ عمران خان سے پوچھے 04 سال کی حکومت میں کتنے جھوٹ بولے اور نوجوانوں نسل کو گمراہ نہیں کیا کیونکہ مولوی طارق جمیل صاحب نے عمران خان کی بہت تعریفیں کی تھیں کہ پاکستان میں اِس جیسا لیڈر نہیں آیا۔ طارق جمیل صاحب اِس نے سب سے زیادہ جھوٹ اور بے حیائی کو فروغ دیا جس کا سب سے بڑا ثبوت 2014 کا دھرنا ہے۔ طارق جمیل صاحب اِس پوری دنیا میں کوئی انسان مکمل نہیں سوائے اللہ اور اُس رُسول کے علاوہ مہربانی کریں کسی کو سرٹیفکیٹ نہ دیا کریں۔


PEASE ADD THE COMMENT WHICH HAS MEANING.AND DESCRIBE YOUR CHARACTER.....