ADS

حرمِ پاک کی بے حرمتی اور پاکستان تحریکِ انصاف کا کردار

   حرمِ پاک کی بے حرمتی اورپاکستان تحریکِ انصاف کا کردار

جس طریقے سے آج روزہ رسول پر نعرہ بازی مسلمانوں  نے کی ہمارے لیے مر جانے کا مقام ہے کیا ہمارے آقا حضرت محؐمد ﷺ یہ درس دیا کرتے تھے کیا انہوں نے ریاستِ مدینہ اس طرح قائم کی تھی وہ تو رحمتُہ اللعلمین تھے اُن پر ایک عورت کوڑا پھینکا کرتی تھی ایک دن اُن پر کوڑا نہ پھینکا گیا تو آپ ﷺ اُن کے گھر چلے گئے وہ بیمار تھی اور اُن کی عیادت کرنے کے لیے جاتے رہے ہمارے آقا تو ایسی ہستی تھی۔

عمران خان صاحب کچھ شرم کرو آپ پاکستان کی نوجوان نسل کو تباہی کی طرف کیوں لے کر جا رہے رہو اور اپنے پاکستان کو کیوں آگ لگانا چاہتے ہو مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ آپ یہودی لابی کا حصہ ہیں۔

انسان کے گھر میں جتنے بھی اختلاف ہوں اُن کا ردعمل گھر تک محدود ہونا چاہیے ہم دنیا کو بحصیتِ مسلمان کیا مسیج دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے آقا دو جہاں کی ایسے بھی قدر کرتے ہیں تو پھر ہم غیر مذاہب سے کیا غلہ کریں گے۔ عمران خان اور اُس کے کارکنان یہ واقع پر اپنی فتح تصور کر رہے ہیں لیکن اسیے لوگوں کو شرم سے ڈوب مرناچاہیے کیونکہ اِن لوگوں نے پاک ہستی کو بھی اپنی سیاست کے لیے استعمال کیا وہ تو ہماری بخشش کا ذریعہ ہیں جو اُن کی بے حرمتی کرے گا وہ ناقابلِ برداشت ہوگی۔ میں آج اپنے پاکستان کی ماؤں بہنوں بھائیوں بوڑوں اور نوجوان نسل سے سوال کرتا ہوں کیا ہمارے نبی حضرت محؐمدﷺ سے زیادہ امریکہ کے خط کی عزت ہے جس کی وجہ سے اُن کی پاک سر زمین کی قدر نہیں کی گئی بڑے اُفسوس کی بات ہے اِس واقع پر پاکستان کے بچے بچے کو عمران خان کے خلاف سڑکوں پر باہر آنا چاہیے  کہ ہم کو اِیسا لیڈر نہیں چاہیے جو ہمیں اپنے مقاصد کے لیے ہمارے نبی کا احترام نہ کرے حکومیتں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن عوام کو گمراہ کرنا اپنے ہی ملک کی تباہی ہے۔

ہمارے آقا جن کو بلاتے ہیں وہی اُن کے در پر جاتا ہے بے شک وہ چور ہو ڈاکو ہو زانی ہو کرپٹ ہو رشوت خور ہو لیکن ہم کون ہوتے ہیں کہ جو اُن کے در پر جائے تو ہم اُن کو چور اور ڈاکو کے ناموں سے نعرے لگائیں یہ ہمارے آقا کی بے حرمتی ہے  جن لوگوں نے کیا ہے اُن کو واقع قرار سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ اِس طرح کا واقع نہ ہو اور میں اِن لوگوں سے پوچھتا ہوں کیا بنی کریم ﷺ نے میاں شہباز شریف سے کہا کہ تم چور اور ڈاکو ہو تم میرے در پر کیا لینے آئے ہو تو ہم کون ہوتے ہیں وہاں پر اِیسےنعرے لگانے والے۔

عمران خان نے پاکستان کی عوام کو آزادی کے نام پر تقسیم کر دیا ہے کون کہتا ہے کہ ہم غلام ہے امریکہ ایک الگ ریاست ہے اور پاکستان ایک الگ ریاست ہے ہر ملک کے ساتھ اچھے تعلق ہونے چاہیے تاکہ ملک ترقی کر سکیں جو ملک معاشی اور اقتصادی طور پر مظبوط  ہوں تو پھر ایسے اقدام اُٹھائے جاتے ہیں ہمارا ملک قرض میں ڈوبہ ہوا ہے اور ہم کس طرف چل پڑے ہیں اللہ کا خوف کریں پہلے اپنے ملک کو بحراںوں سے نکالیں۔ ہم اپنی ناکامی دوسروں پر ڈال دیتے ہیں خود کو اپنے گریبان میں دیکھنا چاہیے کہ ہم غلط تو نہیں کیا جسٹیس قاضی فائز عیسی کا کیس بھی امریکہ کی شازش تھی پاکستان کے آئین کو توڑنا امریکہ کی شازش تھی فارن فنڈنگ میں ناجائز پیسا لینا بھی امریکہ کی شازش تھی کشمیر کو بھارت کے حوالے کرنا یہ بھی امریکہ کی شازش تھی خدا لے لیے اپنے ملک میں خانہ جنگی کا ماحول نہ بنائیں۔

میں حیران ہوں کہ تحریکِ لیبک کے سربراہ سعد رضوی نے عمران خان کے خلاف احتجاج کی کال کیوں نہیں دی کیا عمران خان کے کارکنان نے حرم پاک کی بے حرمتی نہیں کی اور میری سعد رضوی سے ہاتھ جوڑ کر اپیل ہے آپ عمران خان کے خلاف توہین حرمِ پاک کے لیے سڑکوں پر آئیں تاکہ مغربی ممالک کو معلوم ہوجائے کہ کوئی بھی نبی کی شان میں گستاخی کرتا ہے یا اُن کی پاک سر زمین کی بے حرمتی کرتا تو اُس کے ساتھ نبی کے چاہنے والے یکساں سلوک کرتے ہیں۔

کسی بھی ملک کا وزیراعظم جیسا بھی ہواگر وہ کسی ملک میں جاتا ہے تو وہ ملک کی نماندگی  کرتا ہے اگراُس کے خلاف نعرہ بازی ہوگی تو اُس کی نہیں ملک کی بدنامی ہوگی ہم کو اپنے ملک کی عزت اور وقار کو بلند کرنا ہے اگر ہم خود اپنے ہی لوگوں کو چور ڈاکو  دہشت گرد اور غدارکہیں گے تو دنیا  ہمارے بارے میں کیا کہے گی۔

عمران خان نے اپنے ایک خطاب میں فرمایا تھا کہ لوگ اِن کے بچوں سے شادیاں نہیں کریں گے اِن کے بچوں کے ساتھ  سکولوں  میں بُرا سلوک ہو گا یہ لوگ ہر جگہ رسوا ہوں گے جس کا نتیجہ رسول ﷺ کے روزہ مبارک میں پیش آیا یہ سب سے بڑا ثبوت ہے اور شیخ رشید نے بھی وزیراعظم کے جانے سے پہلے فرمایا کہ یہ لوگ سعودیہ جائیں دیکھیں اِن کے ساتھ وہاں کیا سلوک ہوتا ہے اِس کے علاوہ فواد چوہدری اور قاسم سوری نے بھی ایسا ہی بیان دیا جس طرح انہوں نے لوگوں کو اُکسا کر حرمِ پاک کی بے حرمتی کروائی ہے جو آئین اور قانون کہتا ہے اُس کے مطابق اِن کو سزا دی جائے۔

عمران خان کیسا لیڈر ہے جو اپنی کانفرنس میں لوگوں کو چاند رات کو احتجاج کی کال دے رہا ہے یہ خوشیوں کا موقعہ ہے لوگوں کی خوشیوں کو تصادم کی طرف لے کر جانا اور عید کے تہوار کو اپنی سیاست اور کرسی کے لیے استعمال کرنا ایسے انسان کو مسلمان کہلوانے کا کوئی حق نہیں۔



مولخ محمد شفیق


 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad