مدینہ کی ریاست
مدینہ کی ریاست کے لیڈر ہمارے نبی کریم ﷺ تھے اُن کی ریاست میں کسی کے ساتھ نہ انصافی نہیں ہوتی تھی اگر کوئی جرم کرتا تو ان کو قرآن و سنت کے مطابق سزا دی جاتی تھی۔ انہوں نے اللہ کے حکم کے مطابق لوگوں کو قائل کیا جتنی بھی اُن کی ٹیم تھی حضور نبی کریم ﷺ کے احکامات کو تسلیم کرتی انہوں نے اپنی ٹیم کو گالیاں نکالنا نہیں سکھائیں اُنہوں نے پیار سکھایا جس کی وجہ سے مدنیہ کی ریاست وجود میں آئی۔
آج ہم مسلمان مدینہ کا نام لے کر اس ریاست کا مذاق بنا رہے ہیں۔ عمران خان جو گالی گلوچ کا کلچر نوجوانوں میں پیدا کر رہا ہے کیا یہ پاکستان کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے ٹھیک ہوگا۔ جتنی فحاشی تحریک پاکستان کے دور میں ہوئی ہے پہلے نہیں تھی۔
عمران خان کے جلسوں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں زیادہ ہوتی ہیں جن کو نہ اپنی پرواہ ہے اور نہ ہی اپنے والدین کی کیونکہ آج کل کے نوجوان سلطان راہی کی بھڑکیں زیادہ سننا پسند کرتے ہیں۔ عمران خان نے نوجوانوں کو گنڈہ گردی کی طرف زیادہ دھکیل دیا ہے وہ کسی بڑے کی بات سننا ہی پسند نہیں کرتے یہ کیا وہ اپنے ماں باپ کو ہی نہیں مانتے اس کی وجہ عمران خان ہے۔ عمران خان نے نیا پاکستان اور ریاست مدنیہ ایسے بنایا ہے جو تاریخ میں سہنری حروف سے لکھا جائے گا۔
پاکستان کے نوجوان عمران سے سوال کریں کہ آپ ہمیں گنڈہ گردی کی طرف لے کر جارہے ہو زرہ اپنے بچوں کو بھی پاکستان لاؤ تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ آپ پاکستان کے کتنے مخلص اور خیر خواہ ہو۔ اگر عمران خان اپنے بچوں کو پاکستان لا کر عوام میں کھڑا کردے تو میں سمجھوں گا کہ مدینہ ریاست کی بنیاد رکھی گئ ہے۔ یہی سوال نواز شریف سے بھی کرو کہ وہ بھی اپنے بچے پاکستان لائے لیکن ایسا یہ نہیں کرسکتے۔
ان تمام سیاست دانوں کے بچے باہر ہیں اور مرنے کے لیے پاکستان کی غریب عوام ہے۔
پا کستان کے نظام کو کوئی سیاست دان یا آدارہ نہیں بدل سکتا یہ صرف پاکستان کی نوجوان نسل اور عوام ہی بدل سکتی ہے وہ اس طرح کہ ان سب کو راجیکٹ کردیا جائے ان کے جلسوں میں آنا بند کر دویہ سب پاکستان اور عوام کے ساتھ دوکا کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔ عوام ایک ایسی پاور ہے ہر کوئی اس کے آگے جھک جاتا ہے۔
پاکستان کی عوام بتائے کہ عمران خان نے جلسوں میں عوام کو نہیں اکسایا کہ بجلی کے بل پھاڑ دو اس علاوہ اوربھی بہت کچھ کہا کیا یہ مدینہ کی ریاست بننے جارہی تھی یہ پاکستان اور عوام کے ساتھ غداری ہے اس کےاوپر غداری کا مقدمہ بننا چاہیے تھا لیکن ایسا کون کرے کیونکہ ہرکوئی کسی نہ کسی وجہ سے مجبو ر ہے۔
جب کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی لاشیں پڑی تھیں تو ہزارہ برادری کا مطالبہ تھا کہ وزیراعظم آئیں لیکن عمران خان نے کہا میں نہیں آؤں گا جب تک آپ لاشیوں کو دفنا نہیں دیتے ۔ جب اپنے اقتدار کو بچانے کی بات آئی تو ق لیگ اور ایم کیو ایم کے مرکز پہنچ گے کیا مدینہ کی ریاست ایسے بنتی ہے جس میں تمام اصولوں کو ختم کر دیا جائے اور اپنے ضمیر کو گرا دیا جائے ۔ جن کی آپ شکلیں نہیں دیکھنا نہیں چاہتے تھے اُن کے در پر جاکر بھیک مانگنا پڑی۔ اب نوجوانوں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کو شش کر رہے ہو یہ پاکستان کی ریاست مدینہ کے لیے ٹھیک نہیں بھائیوں کو بھائیوں سے مت لڑائیں کیونکہ نقصان پاکستان کا ہوگا۔
اقتدار تو آتے جاتے رہتے ہیں لکین اصولوں پر سودا بازی نہیں ہوتی۔
پاکستان کی عوام 27 مارچ 2022کو اسلام آباد جائے اور عمران خان سے پوچھے کہ آپ نے جو گند اکٹھا کیا ہوا تھا کیا ان کی اصلیت آپ کو معلوم نہیں تھی۔ 03 سال پہلےجو وعدے آپ نے کئے وہ ایک بھی پورا کیا۔ اقتدار کی حواس نے اس کو آندا کر دیا ہے مہنگا ئی کی وجہ سے عوام بھوکی مر رہی ہے آپ کو اپنی کرسی کی پڑی ہوئی ہے۔ پاکستانی عوام عمران خان سے سوال کرے جاؤ پہلے اپنے بچوں کو بلاؤ کہ آکر احتجاج کریں پھر ہم بھی آجائیں گے۔
مولخ محمد شفیق
آ


PEASE ADD THE COMMENT WHICH HAS MEANING.AND DESCRIBE YOUR CHARACTER.....