ADS

عمران خان کے یو ٹرن

    عمران خان کے یو ٹرن                       

  

عمران خان ایک نئے بانئیے امر بالمعروف کے ساتھ 27 مارچ 2022 کو جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور عوام کو پوری تقریر میں بے وقوف بناتے رہے وہ کونسا سرپرائیز تھاجو عوام وہاں سے لے کرگئی ۔ سیاست دان وہ ہوتا ہے جو تمام ملکوں سے اچھے تعلقات رکھے جلسوں میں اُن الفاظ کا استمعال ہو جس میں ملک کے مفاد میں اچھا ہو اگر آپکے اختلافات بھی ہیں تو اُسے اپنی تقاریروں میں نشر نہ کرو جب بھی موقع ملےتو پھر اپنا ردِعمل دو۔ عوام میں کونسا ایسا شخص ہے جو کہتا ہو کہ آپ اسلام کی باتیں کرتے ہیں کیا اسلام ہمیں جھوٹ بولنا سکھاتا ہے آپ نے اپنی صرف کرسی بچانے کے لیے تمام حدیں کراس کر  دیں اگر آپ کے پاس کوئی لیٹرتھا تو پارلیمنٹ میں لاتے تمام اداروں کے سربراہان سے با ت کرتے کہ ہمارے ملک کے ساتھ 75 سال سے شازشیش ہوتی آرہی ہیں لکین اب ایسا نہیں ہوگا یہ جو الفاظ ہوتے ہیں ملکی سلامتی کے لیے ٹھیک نہیں اگر کوئی ملک ہمارے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا تو اُس پر آپ کا کوئی ایکشن نہیں اور نہ ہی عوام سڑکوں پر آتی ہے صرف نبی کریم ﷺ کی شان میں تحریک لیبک اپنا بھر پور احتجاج کرتی ہے۔ عوام ملک کی سب سے بڑی پاور ہے لکین وہ صرف تماشوں والی جگہ جائے گی اپنے نبی کی شان میں نہیں نکلے گی۔ اگر آپ ریاستِ مدینہ بنانا چاہتے تھے تو پھر آپ نے فرانس کا سفیر کیوں نہیں نکالا۔

عمران خان صاحب آپ کی تقاریر بہت اچھی تھی لکین جب آپ  اقتدار میں نہیں آئے تھے تو آپ نے یہی الفاظ کا اپنے جلسوں میں استمعال کیا کہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست عظیم ملک اور نیا پاکستان بناؤں گا لکین ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا کیونکہ اپ نے وہ تمام چہرے اپنے ساتھ ملائے ہوئے ہیں جو ہمیشہ پارٹیاں تبدیل کرتے آئے ہیں وہ کیا آپ کو نیا پاکستان بنانے دیں گے میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں کہ اگر لیٹر آپ کو 07 مارچ کووصول ہوا تو آپ نے امریکہ کے سیکٹری کو او آئی سی کانفرنس میں کیوں بلایا  اس کے سامنے یہ بات کیوں نہ رکھی اُن کے سفارت خانے میں جا کر احتجاج نوٹ کیوں نہ کروایا آپ کو معلوم تھا کہ یہ ملک میری حکومت کو گرانا چاہتا ہے دوسری بات وہ لیٹر آپ نے قومی سلامتی کے اجلاس اور پارلیمنٹ میں 08 مارچ کو پیش کیوں نہیں کیا اگر کر دیتے تو یہ عدم اعتماد پیش نہ ہوتی جب آپ کو معلوم ہوا کہ اب کوئی چارہ نہیں میری حکومت ختم ہورہی ہے تو آپ نے 31 مارچ کو  عسکری قیادت اور پارلیمنی کمیٹی کا اجلاس بلا لیا اور قوم سے خطاب کردیا تاکہ عوام میرے خلاف نہ ہوجائے یہ سب سیاست ہے۔

آپ نے کہا کہ قانون سب کے لیے ایک جیسا ہو گا اور انصاف بھی لکین ایسا بھی نہ ہو سکا جب آپ نے 2021 کا بجٹ دیا تو آپ نے پنشنر کی پنشن میں 10 فصید اضافہ کیا اور سول اور آرمی کو تنخواؤں میں 25 سے 35 فیصد کا اضافہ کیا میرا سوال ہے کیا پنشنر نے پاکستان کے لیے کوئی قربانیاں نہیں دیں جب حالات خراب ہوتے ہیں تو اُن کو کیوں بلایا جاتا  ہے پھر اِن کے ساتھ ایساسلوک کیوں مدینہ کی ریاست میں برابری کا سلوک کیا جاتا تھا۔ عمران خان صاحب باتیں کرنے سے مدینہ کی ریاست نہیں بنتی عمل کرنےسے ریاستِ مدینہ بنتا ہے زرہ سوچئیے۔

عمران خان صاحب نہ میں صحافی نہ سیاست دان اور نہ ہی میرا کسی پارٹی سے تعلق ہے میں صرف پاکستان کا عام سا شہری ہوں ۔


مولخ محمد شفیق




Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad